مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کیوبا میں ایک تیل کی ریفائنری میں بھڑکے ہوئے آگ کے شعلوں کو جلد ہی کنٹرول کر لیا گیا ہے، جبکہ ملک گہرے ایندھن بحران سے دوچار ہے۔
جمعہ کو دارالحکومت ہوانا میں ایک ریفائنری سے سیاہ دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس نے مقامی باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔
کیوبا کی توانائی کی وزارت نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ آگ کو قابو میں لے لیا گیا ہے، کسی بھی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، اور واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
بی بی سی کے مطابق آگ اس جگہ پھوٹی جہاں دو تیل بردار ٹینکرز لنگر انداز تھے، تاہم شعلے ریفائنری کے دیگر اہم حصوں تک پھیلنے سے پہلے ہی کنٹرول کر لیے گئے۔
کیوبا میں ایندھن کی قلت اس وقت خاصی بڑھ گئی ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ امریکہ نے وینزویلا کی جانب سے جزیرے کو تیل کی فراہمی کو بلاک کر دیا تھا—جو کیوبا کی توانائی کی اہم سپلائی لائن تھی۔
یہ واقعہ کیوبا کی توانائی تنصیبات پر بڑھتی ہوئی خطرناک صورتحال کو اجاگر کرتا ہے، جس میں طویل بجلی کی بندشیں، ایندھن کی شدید کمی اور روزمرہ کی خدمات پر گہرے اثرات شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ